ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / راجیہ سبھا میں طلاقِ ثلاثہ بل پیش ہونے کی توقع کانگریس اوراتحادیوں کی مخالفت۔بل سلیکٹ کمیٹی کے پاس بھیجنے کا مطالبہ

راجیہ سبھا میں طلاقِ ثلاثہ بل پیش ہونے کی توقع کانگریس اوراتحادیوں کی مخالفت۔بل سلیکٹ کمیٹی کے پاس بھیجنے کا مطالبہ

Wed, 03 Jan 2018 11:40:14    S.O. News Service

نئی دہلی،2جنوری (یو این آئی) پارلیمانی امور کے وزیر اننت کمار نے آج توقع ظاہر کی کہ راجیہ سبھا میں طلاق ثلاثہ بل بلا رکاوٹ منظور ہوجائے گا۔انہوں نے آج یہاں نامہ نگاروں سے کہا ’’طلاق ثلاثہ پر ہم اپوزیشن کے ساتھ بات کررہے ہیں۔ راجیہ سبھا میں اس بل کے بہ آسانی پاس ہونے کی امید کرتے ہیں پارلیمان کے ایوان بالا میں یہ بل کل پیش کیا جاسکتا ہے ۔‘‘ پارلیمانی امور کے وزیر کا یہ تبصرہ ایسے وقت میں آیا ہے جب کانگریس اور اس کی اتحادی پارٹیوں نے کہا ہے کہ وہ اس بل کو سلیکٹ کمیٹی کے پاس بھجوانا چاہتی ہیں۔لوک سبھا اس بل کو گزشتہ ہفتے پاس کر چکا ہے ۔ کمار نے امید ظاہر کی کہ ایوان بالا میں بھی یہ بل لوک سبھا کی طرح ہی پاس کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ اس سلسلہ میں کانگریس اور دیگر پارٹیوں سے مسلسل بات چیت چل رہی ہے ۔ تمام پارٹیوں کو مسلم فرقہ کی خواتین کے حقوق کے تحفظ کرنے والے اس تاریخی بل کو اتفاق رائے سے منظور کرانا چاہئے ۔کانگریس اور کئی دیگر پارٹیاں اس بل میں کچھ ترمیم چاہتی ہیں اور اسے سلیکٹ کمیٹی کے پاس بھیجنے کے حق میں ہیں۔


ڈاکٹر کے رحمن خان:سابق مرکزی وزیر ورکن راجیہ سبھا ڈاکٹر کے رحمن خان کے مطابق کانگریس اور اس کی اتحادی طلاق ثلاثہ بل کو سلیکٹ کمیٹی کے پاس بھجوانے کی سفارش کی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اس سلسلے میں کانگریس ہم خیال پارٹیوں سے بات چیت کررہی ہیں ۔ امید ہے کہ سوائے بی جے پی ،جے ڈی یو اور شیوسینا دیگر پارٹیاں بھی یہ چاہتی ہیں کہ اس بل کو سلیکٹ کمیٹی کے پاس بھیجا جائے۔ ڈاکٹر رحمن خان نے مزید کہاکہ مسلم پرسنل لاء بورڈ کے عہدیداروں کا بھی یہی موقف ہے بل کو سلیکٹ کمیٹی کے پاس بھیجا جائے۔ذرائع کے مطابق ڈاکٹر رحمن خان نے طلاق ثلاثہ بل سے متعلق راجیہ سبھا کو ایک ترمیم پیش کی ہے، جس میں اس بل سے طلاق کو سنگین اور غیر ضمانتی جرم کے زمرے سے ہٹاکر متاثرہ خواتین کو شوہر کی جائیداد میں سے آدھا حصہ دینے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ این سی پی کے رکن پارلیمان ایم پی مجید میمن نے ایک ٹیلی ویژن چینل سے کہا ’’ اس بل کو جلدبازی میں لایا گیا ہے ۔پہاڑ نہیں ٹوٹ پڑے گا۔ اس طرح کے معاملہ حساس ہوتے ہیں۔ ہمیں مستقبل میں اس طرح کے معاملات میں جلدبازی سے بچنا چاہئے ۔ایسا لگتا ہے کہ حکومت نے مسلمان خاتون بل (تحفظ شادی حقوق )2017کو عجلت میں لایا ہے ۔ اس کے بارے میں تمام فریقوں کی رائے کیوں نہیں لی گئی؟ اس میں رازداری کیوں برتی گئی؟‘‘


Share: